Monday, 1 February 2016

فروری کا مہینہ سندھ حکومت پر بہت بھاری ہوگا، منظور وسان کی نئی پیش گوئی

0 comments

                      فروری کا مہینہ سندھ حکومت پر بہت بھاری ہوگا، منظور وسان کی نئی پیش گوئی


دھواں خیر پور سے ہوتا ہوا پنجاب تک جائے گا اور وفاق اور سندھ کے لئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی ، منظور وسان :فوٹو :فائل
کراچی: سندھ کے صوبائی وزیر اور اپنے خوابوں کی وجہ سے مشہور منظور وسان نے کہا ہے کہ فروری میں حکومت سندھ پر مشکل اور کڑا وقت آنے والا ہے اور اگر سندھ پر مشکل آئی تو وفاق بھی نہیں بچے گا۔
سندھ اسمبلی میں اسپیکر آغا سراج درانی کے جانب سے چاروں صوبوں کے اراکین اسمبلی کے اعزاز میں ظہرانے کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے منظور وسان کا کہنا تھا کہ سندھ اور وفاق کے درمیان جو تناؤ دیکھا جارہا ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فروری کا مہینہ دونوں حکومتوں کے لئے کڑا اور مشکل ہو گا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ رواں ماہ سندھ حکومت کےلئے بہت مشکل ہوگا اور اگر سندھ کے لئے مشکلات ہوئیں تو وفاق کےلئے بھی مشکلات پیدا ہوجائیں گی ۔ انہیں دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے،  یہ دھواں خیرپور سے ہوتا ہوا پنجاب تک بھی جائے گا۔

وزیراعظم 12 فروری کو ایل این جی معاہدے کےلیے قطر جائیں گے

0 comments

                                   وزیراعظم 12 فروری کو ایل این جی معاہدے کےلیے قطر جائیں گے



پاکستان اور قطر کے درمیان 16 ارب ڈالر کے 15سالہ معاہدے پر 13فروری کودستخط ہوں گے فوٹو: فائل
اسلام آباد: پاکستان اور قطر کے درمیان ایل این جی معاہدہ 13فروری کو ہوگا،وزیر اعظم 12فروری کو قطر کے دورہ پر روانہ ہوں گے۔ وزارت پٹرولیم کے ذرائع کے مطابق پاکستان اور قطر کے درمیان 16 ارب ڈالر کا 15سالہ معاہدہ پر قطر اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان دستخط ہوں گے۔
یہ معاہدہ دسمبر 2030تک کارآمد ہوگا۔ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف، وزارت پٹرولیم کے حکام، صدر ایف پی سی سی آئی،تاجر اور سرمایہ کاربھی وزیر اعظم کے ہمراہ قطر جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے توانائی بحران کا حل ایل این جی میں ہے،کیونکہ ملک میں گیس کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اورگیس کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے،اس ساری سورتحال پر ایل این جی مسئلہ کا فوری حل ہے، گیس بحران کے حل کیلیے گیس امپورٹ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
پاکستان میں ایل این جی کی درآمد کے نرخ دنیا کے کم ترین نرخوں میں سے ہیں، اس وقت ملک میں دو ہزار میگاواٹ صلاحیت سے زائد کے پاور پلانٹس گیس کی عدم فراہمی کے باعث بند ہیں، ان کو ایل این جی پر آپریشنل کرنے سے ایک کھرب کی بچت کی جا سکتی ہے، تین ہزار چھ سو میگاواٹ کے نئے پلانٹس لگا ئے جا رہے ہیں جو ایل این جی پر چلا کر دو کھرب کی بچت کی جا سکتی، ایل این جی کی امپورٹ سے سالانہ 100ارب روپے کی بچت ہوگی،زرائع کے مطابق ایل این جی کی پرائس ایران اور ٹاپی گیس سے سستی ہوگی۔ مارچ 2016تک ایل این جی کے 30کارگو سسٹم میں شامل کرنیکا ٹارگٹ ہے،ایل این جی امپورٹ ہونے سے دسمبر تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی۔